٢٠٦٢٧ - حدثنا وكيع (قال) (١): نا أبو العميس عن عبد اللَّه (بن عبد اللَّه) (٢) ⦗٨٩⦘ ابن (٣) (جبر) (٤) بن عتيك عن أبيه عن جده أن النبي ﷺ (٥) عاده في مرضه فقال قائل من أهله: إنا (كنا) (٦) لنرجوا أن تكون وفاته (قتل) (٧) شهادة في سبيل اللَّه! فقال: "إن شهداء أمتي (إذن) (٨) (لقليل) (٩)، القتيل في سبيل اللَّه (شهيد) (١٠)، والمبطون شهيد، والمطعون شهيد، والمرأة تموت بجمع شهيد، والحرق والغرق و (المجنوب) (١١) شهيد". يعني قرحة ذات (الجنب) (١٢) (١٣).حضرت ابو عمیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو ان کے گھر والوں نے عرض کیا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ ان کا انتقال اللہ کے راستے میں شہادت سے ہوگا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جان دینے والا بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، بچے کو جنم دیتے ہوئے مرنے والی عوت شہید ہے، جل کر، ڈوب کر اور پھوڑے سے مرنے والا بھی شہید ہے۔