حدیث نمبر: 20626
٢٠٦٢٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن الغاز عن عبادة (بن (نسي) (١) عن عبادة) (٢) بن الصامت أن النبي ﷺ قال: "ما (تِعدُّون) (٣) الشهيد فيكم؟ " قالوا: الذي يقاتل في سبيل اللَّه [فيقتل، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إن شهداء أمتي (إذن) (٤) لقليل! القتيل في سبيل اللَّه شهيد] (٥) (والمطعون شهيد) (٦) والمبطون شهيد، والمرأة تموث (بجمع) (٧) -يعني حاملًا- شهيد" (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ انہوں نے کہا جو اللہ کے راستے میں قتال کرے اور جان دے دے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، بچے کو جنم دیتے ہوئے مرنے والی عورت بھی شہید ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (نسبي).
(٢) سقط من: [ز]، وتكرر في [ط]: مرة.
(٣) في [ط]: (تعتدون).
(٤) في [جـ]: (إذا).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٦) سقط من: [أ، ب، س، هـ].
(٧) في [أ، ب]: (تجمع).
(٨) منقطع؛ عبادة بن نسي لا يروي عن عبادة بن الصامت، أخرجه أحمد (٢٢٦٨٥)، والطيالسي (٢٤١٤)، والدارمي (٢٤١٤)، والشاشي (١٣٠٣)، والطبراني في الشاميين (٢٢٣٥)، وابن الأثير في أسد الغابة ٢/ ١٨٧.