حدیث نمبر: 20625
٢٠٦٢٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نميرنا محمد بن إسحاق عن أبي مالك بن ثعلبة عن عمر بن الحكم بن ثوبان عن أبي هريرة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما (تعدون) (١) الشهيد؟ " قال: (فقالوا) (٢): المقتول في سبيل اللَّه، قال: "إن شهداء أمتي (إذن) (٣) لقليل! القتيل في سبيل اللَّه شهيد، [[والخار عن (دابته) (٤) في سبيل اللَّه شهيد (والغرق في سبيل اللَّه شهيد) (٥)، [والطعن (في سبيل اللَّه) (٦) شهيد، والمبطون في سبيل اللَّه شهيد] (٧)، (والمجنوب في سبيل اللَّه شهيد) (٨)]] (٩) يعني (قرحة (١٠) ⦗٨٨⦘ ذات الجنب" (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : کہ جو اللہ کے راستے میں مارا جائے۔ آپ نے فرمایا : کہ اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جان دینے والا بھی شہید ہے، اللہ کے راستے میں سواری سے گر کر ہلاک ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ کے راستے میں ڈوبنے والا بھی شہید ہے، اللہ کے راستے میں طاعون کا شکار ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ کے راستے میں پیٹ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے، اور اللہ کے راستے میں پھوڑے کا شکار ہو کر مرنے والا بھی شہید ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: (تعتدون).
(٢) في [س]: (فقال).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (إذا).
(٤) في [س]: (دابة).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) سقط من: [ك].
(٧) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، س، هـ].
(٨) تكرر هذا المقطع مرة وبدون لفظ الجلالة في: [ط]، وسقط من: [س].
(٩) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٠) في [س]: (فرحة).
(١١) مجهول؛ لجهالة أبي مالك بن ثعلبة، أخرجه أحمد (٩٦٩٥)، والبيهقي في الشعب (٩٤١٥)، وأصله عند البخاري (٦٥٣)، ومسلم (١٩١٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20625
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20625، ترقيم محمد عوامة 19821)