حدیث نمبر: 20603
٢٠٦٠٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: غزونا أرض الروم ومعنا حذيفة، وعلينا رجل من قريش، فشرب الخمر (فأردنا) (١) أن (نحدّه) (٢) فقال حذيفة: تحدون أميركم وقد ⦗٧٨⦘ (دنوتم) (٣) من عدوكم (فيطمعون) (٤) فيكم، فقال: (لأشربنها) (٥) وإن كانت محرمة، (ولأشربن) (٦) على (رغم) (٧) من (رغم) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرزمین روم میں جہاد کیا، اس وقت ہمارا امیر ایک قریشی تھا، اس نے شر اب پی تو ہم نے اس پر حد جاری کرنا چاہی۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم اپنے امیر پر حد جاری کرو گے حالانکہ تم دشمن کے قریب ہو، اس طرح تو دشمن تم پر چڑھ دوڑے گا ؟ اس امیر نے کہا کہ میں ضرور شراب پیوں گا اگرچہ یہ حرام ہے اور میں ضرور شراب پیوں گا خواہ کسی کو برا لگے۔

حواشی
(١) في [س]: (فارادونا).
(٢) في [س]: (يحده).
(٣) في [أ، ب]: (وصلتم).
(٤) في [جـ]: (فيطعمون).
(٥) في [س]: (لا يشربنها).
(٦) في [س]: (ولا يشربن).
(٧) في [أ، ب، س، ط]: (رعم).
(٨) في [أ، ب]: (زعم)، وفي [س، ط]: (رعم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20603
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20603، ترقيم محمد عوامة 19799)