٢٠٦٠٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية قال: (مال) (١) مكحول وابن (أبي) (٢) زكريا إلى خالد بن (معدان) (٣) وملت معهما (فحدثنا) (٤) عن جبير (بن) (٥) نفير قال: قال لي جبير: انطلق بنا (إلى) (٦) (ذي) (٧) (مخمر) (٨) وكان (رجلًا) (٩) من أصحاب النبي ﷺ فانطلقت معه فسأله ⦗٧٦⦘ جبير (عن الهدنة) (١٠) فقال: سمعت (رسول) (١١) اللَّه ﷺ (١٢) يقول: " (ستصالحكم) (١٣) الروم (١٤) (ثم) (١٥) (تغزون) (١٦) (١٧) أنتم (وهم) (١٨) (عدوا) (١٩) فتنصرون (وتغنمون) (٢٠) وتسلمون ثم (تنصرفون) (٢١) حتى (تنزلوا) (٢٢) (بمرج) (٢٣) ذي تلول مرتفع، فيرفع رجل من أهل النصرانية الصليب فيقول: [غلب الصليب! فيغضب (رجل) (٢٤) من المسلمين، فيقوم] (٢٥) إليه فيدقه، فعند ذلك (تغدر) (٢٦) الروم (ويجمعون) (٢٧) ⦗٧٧⦘ (للملحمة) (٢٨) (٢٩).حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، حضرت مکحول رحمہ اللہ اور حضرت ابن ابی زکریا رحمہ اللہ ، حضرت خالد بن معدان رحمہ اللہ کی طرف گئے۔ انہوں نے ہمیں حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کے حوالے سے ایک حدیث سنائی کہ حضرت جبیر رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ چلو ایک صحابی حضرت ذوخمر کے پاس جائیں۔ میں جبیربن قصیر کے ساتھ ان کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت جبیر نے ان سے ” ہدنہ “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اہل روم عنقریب تم سے امن والی صلح کریں گے، پھر تم اور وہ دشمنوں کے ساتھ جنگیں کرو گے، ا ن جنگوں میں تم کامیاب ہو جاؤ گے اور تمہیں مال غنیمت اور سلامتی حاصل ہوگی، پھر تم ٹیلوں والی ایک سر زمین پر ٹھہرو گے تو وہاں ایک عیسائی صلیب کو بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی۔ اس پر مسلمانوں کے ایک آدمی کو غصہ آئے گا اور وہ اس صلیب کو توڑ دے گا۔ اس موقع پر اہل روم صلح ختم کردیں گے اور لڑائی کے لیے جمع ہوں گے۔