حدیث نمبر: 20599
٢٠٥٩٩ - حدثنا يحيى بن إسحاق (١) حدثني يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب (أن) (٢) عبد الرحمن بن (شماسة) (٣) (المهري) (٤) أخبره عن زيد بن (ثابت) (٥) قال: بينما (نحن) (٦) حول رسول اللَّه ﷺ (نؤلف) (٧) القرآن من ⦗٧٥⦘ (الرقاع) (٨) (إذ) (٩) قال: "طوبى للشام، (طوبى للشام) (١٠) "، قيل يا رسول اللَّه: (ولماذا؟) (١١) (قال) (١٢): "لأن (ملائكة) (١٣) الرحمن باسطة أجنحتها عليها" (١٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثا بت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور ﷺ کے گرد بیٹھے قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا : شام کے لیے خوشخبری، شام کے لیے خوشخبری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! شام کے لیے خوشخبری کیوں ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ شام پر فرشتوں نے اپنے پر پھیلا رکھے ہیں۔
حواشی
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا).
(٢) في [س]: (عن).
(٣) في [س]: (شمامة).
(٤) في [ز، ك]: (المهدي).
(٥) في [س]: (ثاين).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [أ، ب]: (يؤلف).
(٨) في [أ، ب]: (الدفاع).
(٩) في [س]: (إذا).
(١٠) سقط من: [س، هـ].
(١١) في [أ، ب، ز، ط، ك]: (ولم ذا)، وفي [س]: (لماذا).
(١٢) سقط من: [أ، ب، ز، ط، ك]، وتكرر في [جـ]: مرة.
(١٣) في [س]: (الملائكة).