٢٠٥٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون نا جرير بن حازم عن الزبير بن (الخريت) (١) عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان فرض على المسلمين أن يقاتل الرجل منهم العشرة من المشركين، قوله: ﴿إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا﴾، فشق ذلك عليهم، فأنزل اللَّه التخفيف فجعل على (الرجل) (٢) يقاتل الرجلين قوله تعالى: ﴿إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ﴾ [الأنفال: ٦٥]، فخفف (عنهم ذلك) (٣) ذلك ونقصوا من النصر بقدر ذلك (٤).حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں پر اس بات کو فرض قرار دیا گیا تھا کہ ایک آدمی دس مشرکوں سے قتال کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اگر تم میں بیس صبر کرنے والے ہیں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو ہیں تو وہ ہزار پر غالب آئیں گے۔ یہ بات مسلمانوں پر دشوار گذری تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی کہ ایک آدمی دو مشرکوں سے قتال کرے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہیں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ بعد میں ان پر اس میں بھی تخفیف کردی گئی اور مدد میں اسی کے بقدر کمی کردی گئی۔