٢٠٥٩٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه (عن جده) (١) (عبد الرحمن) (٢) بن عوف (أنه) (٣) أتي بطعام قال شعبة: أحسبه كان صائمًا، ⦗٧٠⦘ (فقال) (٤) عبد الرحمن: قتل حمزة (ولم) (٥) (نجد) (٦) ما (نكفنه) (٧) وهو خير (مني) (٨)، وقتل مصعب بن عمير وهو خير مني، ولم (نجد) (٩) ما (نكفنه) (١٠)، (و) (١١) قد أصبنا ما أصبنا، (قال شعبة) (١٢): (أو) (١٣) قال: أعطينا منها (ما أعطينا) (١٤) ثم قال عبد الرحمن: إني لأخشى أن تكون قد عجلت لنا طيباتنا في الدنيا، قال شعبة: وأظنه قام (ولم) (١٥) يأكل (١٦).حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہایک مرتبہ روزے سے تھے، ان کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے فرمایا : کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کو کفنانے کے لیے ہمارے پاس کپڑا نہیں تھا ، حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کو کفنانے کے لیے بھی ہمارے پاس کپڑا نہیں تھا حالانکہ وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ اب دنیا کا بہت سا مال و متاع ہمارے قبضہ میں آگیا ہے ۔ اس کے بعد حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ ہمیں ہمارا اجر دنیا ہی میں نہ دے دیا گیا ہو۔ حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں وہ اٹھ گئے اور انہوں نے کھانا نہیں کھایا۔