٢٠٥٨٦ - حدثنا وكيع (عن) (١) سفيان عن سالم عن سعيد بن جبير: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾، قال: لما أصيب حمزة بن عبد المطلب ومصعب بن عمير يوم أحد قالوا: ليت إخواننا يعلمون ما أصبنا من الخير، كي يزدادوا (رغبة) (٢) فقال اللَّه: أنا أبلغ عنكم فنزلت: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (١٦٩) فَرِحِينَ﴾ إلى ⦗٦٨⦘ قوله: (﴿الْمُؤْمِنِينَ﴾) (٣) (٤) [آل عمران: ١٦٩ - ١٧٠، ١٧١].حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت : : ” جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کر دئیے جائیں انہیں مردہ شمار نہ کرو، وہ زندہ ہیں اور انہیں اللہ کے یہاں رزق دیا جاتا ہے۔ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب غزوہ احد میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو انہوں نے شہادت کے بعد کہا کہ کاش ہمارے بھائیوں کو اس خیر کا علم ہوجائے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ان تک تمہارا یہ پیغام پہنچاتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ } سے لے کر { المؤمنین } (آل عمران : ١٦٩) تک آیت نازل فرمائی۔