حدیث نمبر: 20584
٢٠٥٨٤ - حدثنا عيسى بن يونس بن أبي إسحاق أخبرني أبي عن رجال من بني سلمة قالوا: لما صرف معاوية عينه التي (تمر) (١) على قبور الشهداء، (فأجريت) (٢) عليهما -يعني (على) (٣) قبر عبد اللَّه بن (عامر) (٤) بن (حرام) (٥) وعلى قبر عمرو ابن (الجموح) (٦) - (فبرز) (٧) قبراهما (فاستصرخ) (٨) عليهما (فأخرجناهما) (٩) (يتثنيان) (١٠) تثنيًا كأنهما ماتا بالأمس، عليهما بردتان قد (غطي) (١١) بهما على ⦗٦٧⦘ (وجهيهما) (١٢)، وعلى أرجلهما شيء من نبات الأرض (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسحاق بنو سلمہ رحمہ اللہ کے کچھ آدمیوں سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چشمے کا پانی احد کے شہداء کی قبروں کی طرف آگیا۔ اس کی وجہ سے حضرت عبدا للہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کی قبر ظاہر ہوگئی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ان حضرات کی قبروں کو کسی دوسری جگہ منتقل کردیا جائے۔ جب ہم نے ان حضرات کے مبارک جسموں کو قبروں سے نکالا تو وہ اس طرح تازہ تھے جیسے کل ہی ان کا انتقال ہوا ہو۔ ان کے چہرے والے حصوں کو چادر سے اور پاؤں کو اذخر نامی گھاس سے ڈھانپا گیا تھا۔

حواشی
(١) في [س]: (بمر)، وفي [أ، ب]: (يمر).
(٢) في [س]: (فأضرت)، وفي [هـ]: (فأضربت).
(٣) في [س]: سقطت.
(٤) في [جـ]: (عمرو).
(٥) في [أ، ب]: (حزام).
(٦) في [ز، ك]: (الجموع).
(٧) في [أ، ب]: (قرار)، وفي [س، هـ]: (فرز).
(٨) في [ط]: (فاستصرفاخ).
(٩) في [س]: (فأخرجنابهما)، وفي [جـ]: (وأخرجلاهما).
(١٠) في [أ، ب، س]: (يتشيان)، وفي [ط]: (تيثينان).
(١١) في [أ، س]: (عطى).
(١٢) في [أ، ب، س]: (وجوههما)، وفي [ط]: (وجهما)، وفي [ب، هـ]: (وجههما).
(١٣) مجهول؛ لإبهام الرجال من بني سلمة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20584
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20584، ترقيم محمد عوامة 19780)