٢٠٥٨٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: حدثني أبو سلام الدمشقي عن خالد بن زيد قال: كنت رجلًا راميًا فكان يمر بي عقبة بن عامر فيقول: يا خالد، أخرج بنا (نرمي) (١)، فلما كان ذات يوم (أبطأت) (٢) عنه فقال: يا خالد، تعال أخبرك ما قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة: صانعه (يحتسب) (٣) في صنعته الخير، والرامي به، (ومُنْبلُهُ) (٤) وليس اللهو إلا في ثلاث: تأديب الرجل فرسه، وملاعبته أهله ورميه بقوسه ونبله، ومن ⦗٦٦⦘ ترك الرمي بعدما علمه فهي نعمة تركها أو كفرها" (٥).حضرت خالد بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک ماہر تیر انداز تھا۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ جب کبھی میرے پاس سے گزرتے تو فرماتے کہ اے خالد ! چلو آؤ تیر اندازی کرتے ہیں۔ ایک دن میں نے کچھ سستی کی تو انہوں نے فرمایا : کہ اے خالد رضی اللہ عنہ ! آؤ میں تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سناتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ اس کے بنانے والے کو اگر اس نے اس کے بنانے میں خیر کا ارادہ کیا۔ اس کے چلانے والے کو اور اس کے سیدھا کرنے والے کو۔ دل لگی کے تین کام ایسے ہیں جن میں ثواب ملتا ہے۔ ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو سدھانا، دوسرا آدمی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا اور تیسرا کمان سے تیر پھینکنا اور اس کو سیدھا کرنا۔ جس شخص نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ اس نے اس نعمت کی ناشکری کی۔