حدیث نمبر: 20571
٢٠٥٧١ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن إسماعيل بن أبي خالد عن زياد عن خالد بن الوليد قال: ما كان في الأرض ليلة (أبشر) (٢) فيها بغلام، ويهدى إليّ (عروس) (٣) أنا لها محبٌ أحب إليّ من ليلة شديدة الجليد في سرية من المهاجرين أصبح بهم العدو، فعليكم بالجهاد (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ روئے زمین پر ایسی رات جس میں مجھے ایک بیٹے کی خوشخبری دی جائے اور میری طرف ایک ایسی دلہن بھیجی جائے جس سے میں محبت رکھتا ہوں، اس رات سے زیادہ پسند نہیں، جو سخت مشقت والی ہو، میں مجاہدین کے ایک لشکر کے ساتھ اسے بسر کروں اور صبح کو انہیں لے کر دشمن پر حملہ کر دوں۔ پس تم پر جہاد لازم ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عبد)، وفي [س]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [ط]: (أشر).
(٣) في [ك]: (بها).