حدیث نمبر: 20569
٢٠٥٦٩ - حدثنا محمد بن بشر نا مسعر عن حبيب بن أبي ثابت عن يحيى بن جعدة قال: قال عمر: لولا أن (أسير) (١) في سبيل اللَّه، أو أضع (جنبي للَّه) (٢) في التراب، أو أجالس قومًا يلتقطون طيب الكلام كما يلتقط طيب (التمر) (٣) ⦗٦٠⦘ (لأحببت) (٤) أن أكون قد لحقت باللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں اللہ کے راستے میں نہ چلوں، میں اللہ کے راستے میں اپنی پیشانی کو مٹی پر نہ رکھوں اور ان لوگوں کی ہم نشینی اختیار نہ کروں جو اچھے کلام کو اس طرح چنتے ہیں جیسے عمدہ کھجوروں کو چنا جاتا ہے تو میری خواہش ہوگی کہ میرا انتقال ہوجائے۔

حواشی
(١) في [ط]: (أمير).
(٢) في [ط]: (جنبي اللَّه)، وفي [ك]: (حبيني).
(٣) في [ط]: (التمز).
(٤) في [س]: (لأحبت).
(٥) منقطع؛ يحيى بن جعدة لا يروي عن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20569
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20569، ترقيم محمد عوامة 19765)