٢٠٥٤٩ - حدثنا يزيد بن هارون أنا حميد عن أنس بن مالك أن عمه غاب عن قتال بدر فقال: غبت عن أول قتال قاتله رسول اللَّه ﷺ واللَّه لئن أراني اللَّه قتال المشركين ليرين اللَّه ما أصنع؟ فلما كان يوم أحد انكشف المسلمون فقال: اللهم إني أعتذر إليك مما صنع هؤلاء، يعني المسلمين، (وأبرأ) (١) إليك مما جاء به هؤلاء، يعني المشركين، ثم تقدم فلقيه سعد (بأخراها) (٢) دون أحد، فقال (له) (٣) (سعد) (٤): أنا معك، قال سعد: فلم (أستطع) (٥) (أن) (٦) أصنع (كما) (٧) صنع ووجد فيه (بضع) (٨) وعشرون ضربة بسيف، وطعنة (برمح) (٩) و (رمية) (١٠) بسهم فكنا نقول: فيه وفي أصحابه نزلت: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾ [الأحزاب: ٢٣] (١١).حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے چچا کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں پہلی لڑائی میں تو شریک نہ ہوسکا، لیکن اگر اللہ نے مجھے دوبارہ کافروں سے لڑنے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ! پھر غزوہ أحد میں جب مسلمان بکھر گئے تو میرے چچا نے کہا کہ اے اللہ ! میں مسلمانوں کے قتل پر تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور کافروں کے قتل پر براءت کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر وہ آگے بڑھے تو انہیں احد کے پاس حضرت سعد رضی اللہ عنہ ملے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسی لڑائی انہوں نے کی میں ایسی لڑائی کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ ان کے جسم میں بیس سے زیادہ تلواروں، نیزوں اور تیروں کے نشان تھے۔ ہم ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے : : ” ان میں سے بعض نے تو اپنی منت کو پورا کردیا اور بعض انتظار کر رہے ہیں۔ “ (الاحزاب : ٢٣)