٢٠٥٤٧ - حدثنا أبو أسامة نا مصعب بن سليم (١) الزهري قال: نا أنس بن مالك قال: لما بعث أبو موسى على البصرة، كان ممن بعث معه (البراء، وكان من (وزرائه)) (٢) (٣) وكان يقول له: (اختر من) (٤) (عملي) (٥) فقال البراء: (ومعطي) (٦) أنت (ما) (٧) سألتك؟ قال: نعم! قال: أما إني لا أسألك إمارة مصر ⦗٥٠⦘ ولا (جباية) (٨)، ولكن أعطني (قوسي) (٩) ((ورمحي وفرسي) (١٠) وسيفي) (١١) (ودرعي) (١٢) والجهاد في سبيل (اللَّه) (١٣)، (فبعثه) (١٤) على (جيش) (١٥) (فكان) (١٦) أول من قتل (١٧).حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو بصرہ بھیجا گیا تو ان کے ساتھ جانے والوں میں حضرت براء رحمہ اللہ بھی تھے۔ وہ ان کے نائبین اور وزراء میں سے تھے ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہان سے فرمایا کرتے تھے کہ آپ اپنے لیے کوئی عہدہ منتخب کرلیجئے۔ حضرت براء رحمہ اللہ نے ان سے فرمایا کہ میں جو آپ سے طلب کروں گا آپ مجھے دیں گیْ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جی ہاں ! حضرت براء رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں آپ سے مصر اور اس کی نواحی بستیوں کی امارت نہیں مانگتا، بلکہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے میری کمان، میرا گھوڑا، میرا نیزہ اور میری تلوار دے دیں اور مجھے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے جانے دیں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت براء رحمہ اللہ کو ایک لشکر کے ساتھ بھیج دیا۔ وہ اس لشکر کے سب سے پہلے شہید تھے۔