٢٠٥٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق قال: سألت ابن مسعود عن هذه الآية: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: ١٦٩]، فقال: أما إنا قد سألنا عن ذلك (١): أرواحهم (طير) (٢) خضر تسرح في الجنة في أيها (شاءت) (٣)، [ثم تأوي إلى قناديل معلقة (بالعرش) (٤)] (٥) (٦) فبينما هم كذلك (إذ اطلع) (٧) عليهم (ربك) (٨) ⦗٤٣⦘ فقال: سلوني (ما شئتم) (٩) فقالوا: يا ربنا، وماذا نسألك (و) (١٠) نحن نسرح في الجنة في أيها شئنا! قال [: فبينما هم كذلك إذ اطلع عليهم ربهم اطلاعة فقال: سلوني (١١) ما شئتم! فقالوا: يا ربنا (و) (١٢) ماذا نسألك ونحن نسرح في الجنة (في) (١٣) أيها شئنا! قال: فبينما هم كذلك إذ اطلع عليهم (ربهم) (١٤) اطلاعة فقال: سلوني ما شئتم! فقالوا: (يا) (١٥) ربنا (و) (١٦) ماذا نسألك ونحن نسرح في الجنة في أيها شئنا! (قال) (١٧)] (١٨): فلما (رأوا) (١٩) أنهم (لن يتركوا) (٢٠) قالوا: نسألك (أن) (٢١) ترد أرواحنا في أجسادنا (إلى الدنيا) (٢٢) حتى نقتل في سبيلك، (قال) (٢٣): فلما رأى أنهم لا يسألون إلا هذا تركهم (٢٤).حضرت مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں سوال کیا : { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ } انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اس بارے میں حضور ﷺ سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوتی ہیں اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ پھر وہ عرش سے لٹکے ہوئے قنادیل پر بیٹھی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے جو تم چاہتے ہو وہ مانگو، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم آپ سے اور کیا مانگیں ہم جنت میں سیر کر رہے ہیں اس کے علاوہ ہمیں اور کیا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم تجھ سے کیا مانگیں، ہم جنت میں سیر و تفریح کر رہے ہیں، اس کے علاوہ ہمیں کس چیز کی خواہش ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمائے گا کہ تم جو چاہتے ہو مجھ سے مانگو۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم آپ سے کیا مانگیں، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں سیر کرتے ہیں ہمیں اور کیا چاہیے، پھر جب وہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ضرور کچھ دینا چاہتے ہیں تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں واپس لوٹا دے تاکہ ہم جا کر تیرے راستے میں جہاد کریں۔ جب اللہ تعالیٰ دیکھیں گے کہ وہ جنت کی کوئی چیز مانگ ہی نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے حال میں چھوڑ دیں گے۔