حدیث نمبر: 20514
٢٠٥١٤ - حدثنا مالك بن إسماعيل نا زهير نا داود بن عبد اللَّه الأودي أن وبرة ⦗٣٧⦘ أبا كرز (الحارثي) (١) (حدثه) (٢) (أنه) (٣) سمع الربيع بن زيد يقول: (بينما) (٤) رسول اللَّه ﷺ يسير، إذ هو بغلام من قريش شاب معتزل (من) (٥) الطريق (يسير) (٦) فقال رسول اللَّه ﷺ: "أليس ذلك (فلانًا؟) (٧) "، قالوا: بلى! قال: "فادعوه"، (قال) (٨): "ما لك اعتزلت (من) (٩) الطريق؟ " قال: (يا) (١٠) رسول (اللَّه) (١١) (١٢)! (كرهته للغبار) (١٣) قال: "فلا (تعتزله) (١٤) فوالذي نفس محمد بيده إنه (لذريرة) (١٥) الجنة" (١٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے جا رہے تھے کہ قریش کا ایک لڑکا رستے سے ذرا ہٹ کر چل رہا تھا۔ آپ نے اسے دیکھ کر اس کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ فلاں لڑکا نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں وہی ہے۔ آپ نے اسے بلا کر اس سے پوچھا کہ تم راستے سے ہٹ کر کیوں چل رہے ہو ؟ ا س نے کہا : کہ میں غبار سے بچنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ راستے سے ہٹ کر نہ چلو کیوں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے ! یہ غبار جنت کی خوشبو ہے۔
حواشی
(١) في [ط]: (الحارفي).
(٢) في [ك]: (حدثته).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [س]: (بينهما).
(٥) في [هـ]: (عن).
(٦) في [أ، ب]: (بيسير).
(٧) في [ب، س، ط، هـ]: (فلان).
(٨) في [ز]: (فقال).
(٩) في [هـ]: (عن).
(١٠) سقط من: [س].
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) في [هـ]: زيادة ﷺ.
(١٣) في [هـ]: (كرهت الغبار).
(١٤) في [أ، ب]: (تعزله).
(١٥) في [أ، ب]: (كزبوة).