حدیث نمبر: 20502
٢٠٥٠٢ - حدثنا أبو أسامة نا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت رجلًا يريد أن (يشري) (١) نفسه يوم اليرموك، (وامرأته) (٢) تناشده، قال: ردوا هذه عني، فلو أعلم أنه يصيبها الذي (أريد) (٣) ما (نفست) (٤) عليها، إني واللَّه لئن استطعت (لا يمضي) (٥) (يومٌ) (٦) (يزول) (٧) هذا من مكانه، وأشار بيده إلى جبل، فإن (غلبتم) (٨) على جسدي فخذوه، قال قيس: فمررنا عليه فرأيته بعد ذلك (قُتل) (٩) في (تلك) (١٠) المعركة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ایک آدمی خود کو موت کے لیے پیش کر رہا تھا اور اس کی بیوی اسے روک رہی تھی۔ اس شخص نے کہا اسے مجھ سے دور کردو۔ جو مقصد اس وقت میرے پیش نظر ہے اس میں ا س کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پھر اس نے ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرا بس چلتا تو میں اسے ایک دن میں اس کی جگہ سے ہٹا دیتا۔ اگر تم میرا جسم حاصل کرسکو تو اسے دفنا دینا۔ حضرت قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں ہم نے دیکھا کہ وہ جو شخص اس جنگ کے شہداء میں پڑا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك]: (يشتري).
(٢) في [س]: (وامرأ).
(٣) في [أ، ب، س، ط]: (أصيب)، وفي [هـ]: (أصبت).
(٤) في [س]: (نفثت).
(٥) في [س، ز، ط، ك]: (لا تمضي)، وفي [أ، ب]: (يمضي)، وفي [هـ]: (لأمضي).
(٦) سقط من: [أ، ب، س، ط]، وفي [هـ]: (ولو).
(٧) في [ط]: (نزول)، وفي [أ، ب]: (تزول).
(٨) في [أ، ب، س]: (غلبتهم).
(٩) في [ط]: (قتبل)، وفي [أ، ب]: (قتيل)، وفي [جـ]: (قتيلًا).
(١٠) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20502
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20502، ترقيم محمد عوامة 19700)