حدیث نمبر: 20499
٢٠٤٩٩ - حدثنا وكيع نا الأعمش عن مجاهد عن يزيد بن (شجرة) (١) قال: السيوف مفاتيح الجنة، فإذا تقدم الرجل إلى العدو قالت الملائكة: اللهم (انصره) (٢)، وإن (تأخر) (٣) (قالت) (٤): اللهم اغفر له، (فأول) (٥) (قطرة) (٦) تقطر من دم السيف يغفر له (بها) (٧) كل ذنب وينزل عليه حوراوان ⦗٣٠⦘ (تمسحان) (٨) الغبار عن وجهه (وتقولان) (٩): قد (آن) (١٠) لك [ويقول لهما: (وإنكما) (١١)] (١٢) قد (آن) (١٣) لكما.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یزید بن شجرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں، جب کوئی شخص دشمن کی طرف بڑھتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ یا اللہ ! ا س کی مدد فرما۔ اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ ! اسے معاف فرما۔ تلوار کا وار لگنے سے ہونے والے زخم سے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس کے لیے جنت سے دو حوریں اترتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم تیرے لیے ہیں۔ وہ ان دونوں سے کہتا ہے کہ میں تمہارے لیے ہوں۔

حواشی
(١) في [س، ك]: (سنجرة).
(٢) في [ط]: (انضره).
(٣) في [جـ]: (تأخفر).
(٤) في [أ، ب]: (قال).
(٥) في [س]: (أول).
(٦) في [ط]: (فطرة).
(٧) في [س]: (بهما).
(٨) في [س، ط]: (يمسحان)، وفي [أ، ب]: (يمسحا).
(٩) في [أ، ب، س]: (يقولان).
(١٠) في [أ، ب، س]: (الآن).
(١١) في [ك، ز]: (وإنما)، وفي [س، ط]: (وإنهما).
(١٢) في [أ، ب]: (وأيهما).
(١٣) في [أ، ب، س، ز، ط، ك]: (أنى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20499
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20499، ترقيم محمد عوامة 19697)