حدیث نمبر: 20496
٢٠٤٩٦ - حدثنا محمد بن بشر نا مسعر عن علقمة بن مرثد قال: حدثني من سمع عمر بن عبد العزيز قال: مرت امرأة (بابنها) (١) وزوجها قتيلين، فأتت النبي ﷺ فقالت: (أنت) (٢) رسول اللَّه وقد أنزل اللَّه (عليك الوحي) (٣) فإن كان (هذان) (٤) منافقين (لم نبكيهما) (٥) (ولم (ننعمهما)) (٦) (٧) (عينًا) (٨)، وإن كانا غير منافقين ⦗٢٨⦘ قلنا فيهما ما نعلم، قال: " (أجل) (٩) لم يكونا منافقين، لقد (تلقيا) (١٠) بثمار الجنة، ولقد (تباشرت) (١١) بهما الملائكة"، قال: تقول (المرأة) (١٢): (الآن أحق ألا أبكيهما) (١٣) قال: "ألا إنك معهما" (١٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ایک عورت کا بیٹا اور اس کا خاوند فوت ہوگیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل کی۔ اگر یہ دونوں منافق تھے تو نہ ہم ان پر روئیں گے اور نہ ان کے بارے میں آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔ اگر یہ دونوں منافق نہیں تھے تو ہمیں ان کے بارے میں کچھ بتا دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ دونوں منافق نہیں تھے۔ انہیں جنت کے پھل پیش کیے گئے اور فرشتوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس عورت نے کہا کہ پھر تو ضروری ہے کہ میں نہ روؤں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کہ اور سنو ! تم بھی ان کے ساتھ ہوگی۔

حواشی
(١) في [س]: (بأبها).
(٢) في [أ، ب]: (يا).
(٣) في [س]: (عليه الرحى).
(٤) في [أ، ب، ز، ك]: (هذين).
(٥) في [ط]: (أبكيمها)، وفي [ز، ك]: (أبكهما)، وفي [هـ]: (أبكيهما).
(٦) في [أ، ب، ط]: (ولم تنعمها).
(٧) في [ز، ك]: (ولا تنعمها)، وفي [هـ]: (تنعهما).
(٨) في [هـ]: (عيناي).
(٩) في [س]: (أجلكم).
(١٠) في [س، ط]: (تلتا)، وفي [هـ]: (تليا).
(١١) في [أ، ب]: (تناشرت).
(١٢) في [أ، ب، س، هـ]: (الملائكة).
(١٣) في [جـ]: (الآن حق أن لا أبكهما)، وفي [ط]: (لأن أحق اكها)، وفي [س]: (إلا أن أحق بكما)، وفي [هـ]: (إلا أن ألحق بكما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20496
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ عمر ليس صحابيًا، والراوي عنه مبهم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20496، ترقيم محمد عوامة 19694)