٢٠٤٩٣ - حدثنا وكيع نا مسعر عن أبي بكر بن حفص أن رسول اللَّه ﷺ قرأ يوم بدر: ﴿سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ (السموات) (١)﴾ [الحديد: ٢١]، قال ⦗٢٦⦘ (مسعر) (٢): أما التي (في) (٣) آل عمران وأما التي في الحديد؟ فقال (رجل) (٤) إن (فتحتم) (٥) يا (رسول اللَّه) (٦)! فما (لمن) (٧) (لقي) (٨) هؤلاء فقاتل حتى (قتل) (٩)؟ فقال: "الجنة"، (فقال) (١٠): (١١) حسبي من الدنيا، و (في يده) (١٢) تمرات فألقاها ثم تقدم (فقتل) (١٣) (١٤).حضرت ابوبکر بن حفص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں { سابقوا إلَی مَغْفِرَۃٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ } ” یعنی اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ “ (حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ یا تو یہ سورة آل عمران کی آیت تھی یا سورة الحدید کی) ۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان سن کر ابن قسحم رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول ! اس شخص کا کیا بدلہ ہے جو ان کافروں سے لڑے اور شہید ہوجائے، حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس کا بدلہ جنت ہے۔ ابن قسحم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دنیا کے بدلے میں جنت میرے لیے کافی ہے۔ ان کے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں، انہوں نے کھجوریں پھینکیں، آگے بڑھے اور دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔