٢٠٤٧٨ - حدثنا شبابة عن ابن أبي ذئب عن سعيد بن خالد عن إسماعيل ⦗١٩⦘ (ابن) (١) عبد الرحمن بن أبي (ذوئب) (٢) عن عطاء بن يسار عن ابن عباس أن النبي ﷺ خرج عليهم وهم جلوس فقال: "ألا أخبركم بخير الناس منزلًا؟ " قلنا: بلى يا رسول اللَّه! قال: "رجل ممسك برأس (فرسه) (٣) في سبيل اللَّه حتى يقتل أو يموت، ألا أخبركم بالذي يليه؟ " قالوا: بلى يا رسول اللَّه! قال: "رجل معتزل في شعب يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة يعتزل شر الناس" (٤).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ لوگوں کے پاس تشریف لائے، سب لوگ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین مرتبہ کس شخص کا ہے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین درجہ اس شخص کا ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کو پکڑے جا رہا ہو اور وہ شہید کردیا جائے یا مرجائے۔ میں تمہیں بتاؤں اس کے بعد کس شخص کا مرتبہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا ضرور بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں سے کنارہ کش ہو کر کسی گھاٹی میں رہتا ہو، نماز قائم کرتا ہو او زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شر سے محفوظ رہتا ہو۔