٢٠٤٧٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد قال: قام (يزيد) (١) بن (شجرة) (٢) في أصحابه فقال: إنها قد أصبحت عليكم من بين أخضر وأحمر وأصفر، وفي البيوت ما فيها، فإذا لقيتم العدو غدًا فقُدُما قدما، فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما تقدم رجل من خطوة إلا تقدم إليه الحور العين، فإن تأخر (استترت) (٣) منه، وإن استشهد كانت أولُ (نضحة) (٤) كفارةَ خطاياه، وتنزل إليه اثنتان من (الحور) (٥) العين (تنفضان) (٦) عنه التراب وتقولان له: مرحبًا قد (آني) (٧) ⦗١٧⦘ لك، ويقول: مرحبًا قد آنى لكما" (٨).حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت یزید بن شجرہ رحمہ اللہ ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں کھڑے ہوئے تھے اور ان سے فرمایا کہ تم پر تمہارے گھروں میں سبز، سرخ، اور زرد نعمتیں برس رہی ہیں، کل جب تم دشمن کی طرف بڑھو تو ایک ایک قدم رکھ کر آگے بڑھنا، کیونکہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب آدمی دشمن کے مقابلہ میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو موٹی آنکھوں والی حوریں اس کی طرف بڑھتی ہیں اور جب وہ پیچھے ہٹتا ہے تو حوریں بھی اس سے پردہ کرلیتی ہیں۔ جب وہ شہید ہوجاتا ہے تو اس کے خون کا پہلا قطرہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اس کے شہید ہونے کے بعد دو حوریں اس کے پاس آتی ہیں اور اس سے مٹی صاف کرتی ہیں اور اسے کہتی ہیں کہ تجھے خوش آمدید ! ہم تیرے لیے ہیں، وہ کہتا ہے تمہیں مبارک ہو میں تمہارے لیے ہوں۔