٢٠٤٧٤ - حدثنا زيد بن حباب عن جعفر بن سليمان الضبعي نا أبو عمران الجوني عن أبي بكر بن أبي موسى الأشعري قال: سمعت أبي تجاه العدو يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ: "إن السيوف مفاتيح الجنة"، فقال له رجل (رث) (١) الهيئة: أنت سمعت هذا من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم! فسل سيفه وكسر غمده والتفت إلى أصحابه، وقال: أقرأ عليكم السلام، ثم تقدم إلى العدو فقاتل حتى قتل (٢).حضرت ابوبکر بن ا بی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے دشمن کا آمنا سامنا ہونے پر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں۔ یہ حدیث سن کر ایک پراگندہ حالت کے حامل شخص نے کہا کہ اے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ! کیا یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں، میں نے سنی ہے۔ اس پر اس آدمی نے اپنی تلوار نکالی اور نیام کو توڑ کر اپنے ساتھیوں کو سلام کیا پھر دشمن کی طرف بڑھا اور ان سے لڑتا رہا ، یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔