حدیث نمبر: 20467
٢٠٤٦٧ - حدثنا أبو خالد عن حميد (عن) (١) أنس يرفعه قال: أتته امرأة قتل ابنها ولم يكن لها غيره وكان اسمه حارثة (فقالت) (٢): يا رسول اللَّه! إن يكن في ⦗١٣⦘ الجنة أصبر، وإن يكن (٣) غير ذلك فستعلم ما أصنع؟ فقال النبي ﷺ: "إنها (جنان) (٤) كثيرة وإنه في الفردوس الأعلى" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جنگ میں ایک عورت کا بیٹا شہید ہوگیا جس کا نام حارثہ رضی اللہ عنہ تھا۔ اس عورت کا اپنے بیٹے کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ وہ عورت حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر میرا بیٹا جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی۔ اگر وہ جنت کے علاوہ کہیں اور ہے تو میں ایسا ماتم کروں گی کہ سب کو پتہ چل جائے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنتیں تو بہت سی ہیں اور وہ تو جنت الفردوس میں ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، ك]: (بن).
(٢) في [س]: (فقال).
(٣) في [هـ]: زيادة (في).
(٤) في [أ، س، ط، هـ]: (جنات).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20467
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، والحديث أخرجه البخاري (٦٥٦٧)، وأحمد (١٣٧٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20467، ترقيم محمد عوامة 19666)