٢٠٤٥٠ - حدثنا أبو بكر بن أبي (شيبة) (١) حدثنا أبو خالد (الأحمر) (٢) عن حجاج عن الحكم (عن مقسم) (٣) عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ بعث إلى مؤتة، فاستعمل زيدًا، فإن قتل (زيد) (٤) فجعفر (فإن) (٥) قتل (جعفر) (٦) فابن رواحة، قال: فتخلف ابن رواحة يجمّع مع النبي ﷺ (فرآه) (٧) النبي فقال: "ما خلفك؟) (٨) " فقال: أجمّع معك فقال: " (الغدوة) (٩) أو روحة في سبيل اللَّه خير من الدنيا وما فيها" (١٠).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار مقرر کیا، آپ نے حکم دیا کہ اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہوجائیں تو جعفر رضی اللہ عنہ کو امیر بنا لیا جائے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ کو امیر بنا لیا جائے۔ لشکر کی روانگی کے باوجود حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی غرض سے پیچھے رہ گئے، جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو پوچھا کہ آپ پیچھے کیوں رہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی غرض سے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام لگانا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔