حدیث نمبر: 20433
٢٠٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن هشام عن حفصة عن أم عطية قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (يُحَد) (١) على ميت فوق ثلاث إلا المرأة تحد على زوجها أربعة أشهر وعشرًا، (٢) لا تلبس ثولًا مصبوغًا إلا ثوب عصب، ولا تكتحل ولا تطيب إلا عند (أدنى) (٣) طهرها (بُنبذة من قسط) (٤) أو أظفار" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا درست نہیں۔ البتہ عورت اپنے خاوند کا سوگ چار مہینے دس دن تک منائے گی۔ وہ رنگا ہوا کپڑا نہیں پہنے گی، صرف عصب شدہ کپڑا پہن سکتی ہے۔ سرمہ انہیں لگائے گی اور خوشبو بھی نہیں لگائے گی، البتہ اپنے طہر کے قریب ہونے پر قسط اور اظفار خوشبو تھوڑی سی لگا سکتی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (تحد).
(٢) في [هـ]: زيادة (و).
(٣) في [س]: سقط.
(٤) في [ب، ز، ك]: (ينبذ من طهر)، وفي [أ]: (منذ من طهر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20433
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٤١)، ومسلم (٩٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20433، ترقيم محمد عوامة 19632)