مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يقول لامرأته: أنت طالق إلى سنة باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک سال تک طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20427
٢٠٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن سواء عن سعيد عن حماد عن إبراهيم قال: إن قربها (قبل) (١) أن تمضي أربعة أشهر فهي طالق (ثلاثًا) (٢)، وإن تركها حتى تمضي (الأربعة) (٣) (أشهر) (٤) فقد بانت منه بواحدة، ولا يتزوجها حتى يمضي من السنة (أقل مما يدخل عليه الإيلاء، شهران أو ثلاثة ويتزوجها ولا يقربها حتى تمضي السنة) (٥).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چار مہینے پورے ہونے سے پہلے اس کے قریب آیا تو اسے تین طلاقیں ہوجائیں گی۔ اور اگر چار مہینے تک اسے چھوڑے رکھا تو وہ ایک طلاق کے ساتھ بائنہ ہوجائے گی، اور وہ اس سے اس وقت تک شادی نہیں کرسکتا جب تک ایلاء سے کم دن یعنی دو یاتین مہینے نہ گزر جائیں۔ پھر وہ اس سے شادی کرلے لیکن ایک سال تک اس کے قریب نہ جائے۔ حضرت سعید رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی۔
حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [جـ]: (أربعة).
(٤) سقط من: [أ، ب، ز، ط، ك].
(٥) سقط من: [ط].