مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
الرجلان يختلفان في أمر واحد، فيقول (كل) واحد منهما: (هو) ما قلت باب: اگردو آدمیوں کاکسی معاملے میں اختلاف ہوجائے اور ہرایک اپنی بات کو حق کہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20424
٢٠٤٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا جعفر بن عون قال: أنا خالد بن (وردان) (١) قال: سألت عطاء عن رجلين (حلف) (٢) كل واحد منهما: إن ما قلت (كذلك) (٣) وتحت أحدهما (خالتي) (٤) فقال: (يدينان) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن وردان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر دو آدمیوں کا کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے اور ہر ایک اپنی بات کو حق کہے تو کیا حکم ہے ؟ جبکہ ان میں سے ایک کے نکاح میں میری خالہ ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کی دینداری کا اعتبار ہوگا۔
حواشی
(١) في [س]: (دردارن).
(٢) في [أ، ب]: (خلف).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (لذلك).
(٤) في [س]: (حالتي).
(٥) في [جـ]: (يديننا)، وفي [س]: (بدنيا)؛ وفي [س، ط، هـ]: (يدينا).