٢٠٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبيدة) (١) بن حميد عن (ركين) (٢) عن نعيم بن حنظلة قال: قدم جرير بن عبد اللَّه على عمر فشكا إليه ما يلقى من النساء من سوء أخلاقهن، قال: فقال عمر: إني ألقى مثل ما تلقى منهن، إني لآتي، قال -السوق أو الناس- أشتري منهم الدابة أو الثوب، فتقول المرأة: إنما انطلق ينظر إلى (فتياتهم) (٣) أو يخطب إليهم، قال: فقال عبد اللَّه بن مسعود: أو ما تعلم (ما) (٤) شكا إبراهيم من درء في خلق سارة، فأوحى اللَّه إليه، إنما هي من ضلع، فخذ الضلع فأقمه، فإن استقام وإلا فالبسها على ما (فيها) (٥) (٦).حضرت نعیم بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیویوں کی بداخلاقی کی شکایت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس پریشانی کا سامنا تمہیں ہے مجھے بھی ہے۔ میں جب کبھی بازار جاؤں یا لوگوں سے ملوں ، کوئی جانور یا کپڑا خریدوں تو کہنے لگتی ہیں کہ یہ بازار لڑکیوں کو دیکھنے جاتا ہے اور انہیں نکاح کا پیام دیتا ہے ! یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق اور ان کی نافرمانی کی شکایت کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو ٹیڑھا کردو گے۔ ان کی عادتوں کے باوجود ان کے ساتھ گزارہ کرو۔