حدیث نمبر: 20414
٢٠٤١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن أبي طلق عن أبيه (عن) (١) أوس ابن (ثريب) (٢) قال: أكريت (الحاج) (٣) فدخلت المسجد الحرام، فإذا (عمر (و) (٤) جرير) (٥) قال: فقال عمر (لجرير: يا أبا عمرو) (٦) كيف تصنع (مع) (٧) نسائك؟ فقال: يا أمير المؤمنين! إني ألقى منهن شدة، ما أستطيع أن أدخل (بيت) (٨) (إحداهن) (٩) في غير يومها، ولا أُقبّل (ابن) (١٠) (إحداهن) (١١) في غير (يوم أمه) (١٢) إلا غضبن، قال: فقال عمر: إن كثيرًا منهن لا (يؤمِنّ) (١٣) باللَّه ولا (يؤمنّ) (١٤) للمؤمنين، لعلك أن تكون في حاجة (إحداهن) (١٥) (فتتهمك) (١٦) قال: فقال عبد اللَّه ابن مسعود وهو في القوم: يا أمير المؤمنين! أما تعلم أن إبراهيم شكا إلى ⦗٥١٠⦘ (ربه) (١٧) درءًا في خلق سارة قال: فقيل له: إن المرأة (مثل الضلع) (١٨) إن أقمتها كسرتها وإن تركتها اعوجت، فالبس أهلك على (ما فيهم) (١٩)، قال: فقال عمر لعبد اللَّه: إن في قلبك من العلم غير قليل، (قالها) (٢٠) ثلاث مرات، زاد فيه بعض ((أصحابه) (٢١) أظنه) (٢٢) سفيان: ما لم ير عليها (خربة) (٢٣) في دينها (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اوس بن ثریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے ارادے سے مسجد حرام میں داخل ہوئے تو مسجد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت جریر رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عمرو رضی اللہ عنہ ! آپ کا اپنی عورتوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے ان کی طرف سے بہت سختی کا سامنا ہے۔ میں ان میں سے کسی کے کمرے میں باری کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ان میں سے کسی کے بچے کو بھی اس کی ماں کی باری کے علاوہ کسی اور دن چوم لوں تو وہ غصے میں آجاتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان میں بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتیں اور نہ مومنین کو مانتی ہیں۔ بلکہ اگر تمہیں ان میں سے کسی کی کبھی ضرورت ہو تو وہ تم پر ہی الزام دھریں گی۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیر المومنین ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق اور ان کی نافرمانی کی شکایت کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو ٹیڑھا کردو گے۔ ان کی عادتوں کے باوجود ان کے ساتھ گزارہ کرو۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے دل میں بہت زیادہ علم ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب]: (شريب)، وفي [س]: (شريك).
(٣) في [جـ]: اللحاج)، وفي [هـ]: (الحجاج)؛ وفي المطالب العالية ٨/ ١٩١: (عبد اللَّه بن جرير).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [ز]: (عمرو وجرير).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [س]: (من).
(٨) في [س]: (على).
(٩) في [س، هـ]: (إحديهن)، وفي [ط]: (أحدهن).
(١٠) في [أ، ب]: (أنية)، وفي [س، ط، هـ]: (ابنة).
(١١) في [س، هـ]: (إحديهن)، وفي [ط]: (أحدهن).
(١٢) في [أ، ب، س، هـ]: (يومها).
(١٣) في [هـ]: (لؤمنن).
(١٤) في [هـ]: (لؤمنن).
(١٥) في [هـ]: (إحديهن)، وفي [ط]: (أحدهن).
(١٦) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (فتتهمك).
(١٧) في [جـ، ز، ك]: (اللَّه).
(١٨) في [س]: (كالضلع).
(١٩) في [جـ، ز]: (فهم).
(٢٠) في [ط]: (قال لها).
(٢١) في [س، هـ]: (الصحابة).
(٢٢) سقط من: [ط].
(٢٣) في [أ، س، هـ]: (حرمة)، وفي [ع]: (حزبة).
(٢٤) مجهول؛ لجهالة أوس بن ثريب والراوي عنه، أخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (١٦٠١) و (٤٠٦١)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٨، والدولابي في الكنى ٢/ ٦٨٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20414
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20414، ترقيم محمد عوامة 19616)