مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يتزوج امرأة في العدة ثم يطلقها؟ باب: اگر آدمی نے ایک عورت سے عدت میں شادی کی پھر اسے طلاق دے دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20377
٢٠٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن زكريا عن الشعبي في امرأة تزوجت رجلًا فمكثت عنده سنتين ثم قدم زوجها فأخذها فطلقها الآخر قال: لا طلاق له.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت نے کسی آدمی سے شادی کی اور پھر دو سال اس کے پاس رہی۔ پھر اس کا شوہر آیا اور اس عورت کو لے گیا۔ پھر دوسرے آدمی نے اس کو طلاق دے دی تو اس کی طلاق کا اعتبار نہیں ہے۔