مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾ باب: قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
حدیث نمبر: 20358
٢٠٣٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن (عمرو) (١) عن طاوس عن ابن عباس قال: إنما هو فرقة وفسخ، ليس بطلاق، ذكر اللَّه الطلاق (في) (٢) آخر الآية وفي أولها، والخلع بين ذلك فليس بطلاق، قال اللَّه تعالى: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ فرقت اور فسخ ہے طلاق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کے شروع میں اور آخر میں طلاق کا ذکر کیا ہے اور ان دونوں کے درمیان خلع کا ذکر کیا ہے جو کہ طلاق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ }
حواشی
(١) في [هـ]: (عمر).
(٢) في [س، ط]: (فهي)، وسقط من: [هـ].