مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾ باب: قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
٢٠٣٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾، قال: يطلق الرجل امرأته طاهرًا (في) (١) غير جماع، فإذا حاضت ثم طهرت فقد تم (القرء) (٢)، ثم (طلق) (٣) (الثانية) (٤) كما (طلق) (٥) الأولى إن أحب أن يفعل، فإذا طلق (الثانية) (٦) ثم ⦗٤٩١⦘ حاضت الحيضة الثانية (٧) فهاتان تطليقتان وقرءان، ثم قال اللَّه تعالى للثالثة: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ فيطلقها في ذلك القرء كله، إن شاء حين (تجمع) (٨) عليها ثيابها.حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو، پھر جب اسے حیض آئے اور پھر طہر آئے تو ایک قرء مکمل ہوگیا۔ پھر اسے دوسری طلاق اسی طرح دے جس طرح پہلی طلاق دی تھی۔ اگر وہ ایساکرنا چاہے تو کرلے۔ پھر جب وہ دوسری طلاق دے دے اور اسے دوسرا حیض آجائے تو یہ دو طلاقیں اور دو قرء ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تیسری طلاق کے بارے میں فرماتا ہے کہ { فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } پھر وہ اس پورے قرء میں اگر چاہے تو اس کو طلاق دے دے یہاں تک کہ عورت اپنے کپڑوں کو سمیٹ لے۔