مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾ باب: قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
حدیث نمبر: 20356
٢٠٣٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبيد اللَّه قال: حدثنا) (١) حسن بن صالح عن (سماك) (٢) قال: سمعت عكرمة يقول: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾، قال: إذا طلق الرجل امرأته، واحدة، فإن شاء نكحها، (وإذا) (٣) طلقها ثنتين فإن شاء نكحها، فإذا طلقها ثلاثًا فلا تحل له حتى تنكح زوجا غيره.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دے تو چاہے تو اس سے نکاح بحال کرلے ۔ اور جب دو طلاقیں دے تو چاہے تو اس سے نکاح کرلے اور جب تیسری طلاق دے دے تو اب وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں جب تک کسی اور آدمی سے شادی نہ کرلے۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ]، وفي [أ، س، ز، ط]: (عبد اللَّه).
(٢) في [س]: (سمك).
(٣) في [أ، ب]: (فإذا).