مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾ باب: قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
حدیث نمبر: 20352
٢٠٣٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو) (١) معاوية قال: نا إسماعيل بن سميع عن أبي رزين قال: أتى النبي ﷺ رجل فقال: يا رسول اللَّه أرأيت قول اللَّه تعالى: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [البقرة: ٢٢٩]، فأين (الثالثة؟) (٢) فقال رسول اللَّه ﷺ: "إمساك بمعروف أو تسريح بإحسان) هي الثالثة" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } میں دو طلاقوں کا تذکرہ ہے، تیسری طلاق کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا مہربانی کے ساتھ روکنا یا احسان کے ساتھ رخصت کردینا ہی تیسری طلاق ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [س]: (الثلاثة)، والحاشية غير واضحة.