مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يحلف (بطلاق) امرأته في الشيء فيختلفان باب: اگر کوئی شخص کسی چیز کے متعلق کرکے اپنی بیوی کو طلاق دینے کی قسم کھائے اور پھر دونوں کا اختلاف ہوجائے توکیا حکم ہے؟
٢٠٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن أبي إسحاق الكوفي عن الشعبي في رجل قال لغريمه: إن لم (أقضك) (١) حقك قبل غروب الشمس فامرأته طالق قال: فلقيه من الغد، فزعم أنه لم يعطه شيئًا قال: فقالت له امرأته: (قد) (٢) طلقتني قال: فخاصمته إلى الشعبي، فقال الشعبي: أما امرأتك فنُديِّنُك (فيها) (٣)، وأما الرجل فبينتك (٤) أنك دفعت إليه ماله، وإلا فأعطه حقه.حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص نے اپنے قرض خواہ سے کہا کہ اگر میں نے غروب شمس سے پہلے تیرا حق ادا نہ کیا تو میری بیوی کو طلاق۔ پھر وہ اس سے اگلے دن ملا اور اس نے کہا کہ اس نے کوئی چیز ادا نہیں کی۔ اس کی عورت نے اس سے کہا کہ تو نے مجھے طلاق دے دی ہے۔ پھر وہ یہ مقدمہ لے کر حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس گئی۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ جہاں تک تمہاری بیوی کا سوال ہے تو وہ ہم تمہاری دین داری پرچھوڑتے ہیں اور جہاں تک آدمی کی بات ہے تو تم گواہی لاؤ کہ تم نے اس کا حق ادا کردیا ہے ورنہ اس کا حق ادا کرو۔