مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يقذف امرأته ثم يموت قبل أن يلاعنها باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے پھر لعان سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو کیا وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے؟
حدیث نمبر: 20305
٢٠٣٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد أنه قال: إذا مات أحدهما قبل الملاعنة، إن هي أقرت بها رجمت وصار إليها الميراث، وإن التعنت ورثت، وإن لم تقر (بواحد) (١) (منهما) (٢) فلا ميراث لها ولا عدة عليها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان دونوں میں سے کوئی ایک لعان سے پہلے مرگیا اور پھر اگر عورت زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کیا جائے گا اور میراث اس کے مال میں شامل ہوگی اور اگر وہ لعان کرے تو وارث ہوگی۔ اگر وہ ان دونوں چیزوں میں سے کسی کا اقرار نہ کرے تو اسے میراث نہیں ملے گی اور اس پر عدت بھی لازم نہیں ہوگی۔
حواشی
(١) في [أ، س، ط، هـ]: (بواحدة).
(٢) في [أ، ب، س]: (منها).