حدیث نمبر: 20268
٢٠٢٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن إسماعيل (بن سالم) (١) عن الشعبي أنه سمعه يقول: إذا دخلت المرأة على زوجها -ومعها حلي ومتاع- فمكثت عند زوجها حتى (تموت) (٢) فهو ميراث، وإن أقام أهلها البينة أنه كان عارية عندها إلا أن يكونوا قد أعلموا ذلك الزوج في حياتها قبل موتها.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت اپنے خاوند کے پاس آئے اور اس کے پاس زیورات اور سامان ہوں اور وہ اپنے خاوند کے پاس ٹھہرے۔ پھر اس کے خاوند کا انتقال ہوجائے تو یہ سب کچھ میراث ہوگا۔ خواہ عورت کے گھر والے اس بات پر گواہی بھی قائم کردیں کہ یہ اس کے پاس صرف استعمال کے لئے تھا۔ البتہ اگر وہ خاوند کی زندگی میں اس بات کو واضح کردیں تو ٹھیک ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ز].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (يموت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20268
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20268، ترقيم محمد عوامة 19480)