مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يطلق أو يموت، وفي منزله متاع باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے یامر جائے اور اس کے گھر میں سامان ہوتوکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20262
٢٠٢٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن ابن سيرين أن رجلًا ادعى متاع البيت، (فجئن) (١) أربع نسوة إلى شريح، فشهدن قلن: (دفعنا إليه) (٢) الصداق، (وقلن) (٣): (جهزها) (٤)، فجهزها، فقضى عليه بالمتاع (٥) وقال: إن عقرها من مالك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے گھر کے سامان کا دعویٰ کیا، اس کی چاروں بیویاں حضرت شریح کے پاس آئیں اور انہوں نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسے مہر دے دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ اس کا سامان خرید لے تو اس نے سامان خرید لیا تھا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے سامان کا فیصلہ آدمی کے خلاف کیا اور فرمایا کہ اس کا تاوان تیرے مال سے ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (فمجين).
(٢) في [هـ]: (ادفع إليهما).
(٣) في [أ، ب]: (وقلان).
(٤) في [أ، ب]: (فجهزها).
(٥) اعتبر المتاع من الصداق، والزوج قد دخل.