حدیث نمبر: 20259
٢٠٢٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن حماد قال: سمعته يقول: قلت لإبراهيم: ما الإيلاء؟ قال: [أن يحلف (لا) (١) يكلمها، ولا يجامعها، ولا يجمع رأسه رأسها] (٢) وليغيظنها [أو ليسوءنها.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ ایلاء کیا چیز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ آدمی اس بات کی قسم کھالے کہ وہ بیوی سے بات نہیں کرے گا، اس سے جماع نہیں کرے گا، اس کا اور اس کی بیوی کا سر جمع نہیں ہوں گے۔ یا وہ اس پر ضرور بضرور بہت زیادہ غصہ ڈھائے گا یا وہ اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرے گا۔

حواشی
(١) في [جـ، س، ط]: (أن لا)، وفي [ز]: (ألا).
(٢) في [أ، ب، ك]: (أن تحلف: ألا تكلمها ولا تجمعها ولا يجمع رأسه رأسها)، وفي [أ]: (ولا تجمع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20259
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20259، ترقيم محمد عوامة 19471)