مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته ولها ولد صغير باب: اگر کوئی شخص کسی عورت کو طلاق دے اور اس کا چھوٹا بچہ ہو تو وہ کس کے پاس رہے گا؟
حدیث نمبر: 20250
٢٠٢٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى (عن) (١) أبي ميمونة عن أبي هريرة قال: جاءت امرأة إلى رسول اللَّه ﷺ (قد) (٢) طلقها زوجها فأرادت أن تأخذ ولدها قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "استهَمِا فيه"، فقال الرجل: من يحول بيني وبين ابني؟ فقال رسول اللَّه ﷺ للابن: "اختر: أيهما شئت"، قال: فاختار أمه فذهبت به (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تھی۔ وہ عورت اپنا بچہ لینا چاہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میاں بیوی بچے کے بارے میں قرعہ اندازی کرلو۔ آدمی نے کہا کہ میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا کہ جس کو چاہو اختیار کرلو۔ بچے نے ماں کو اختیار کرلیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (بن).
(٢) في [هـ]: (وقد).