حدیث نمبر: 20236
٢٠٢٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن جعفر بن محمد عن (سعد) (١) بن إبراهيم أن رجلًا قال لامرأته: أنت طالق فسأل القاسم وسالمًا (فقالا) (٢): (٣) نرى أن (يحلفه) (٤): ما أراد (البتة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟ وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس بارے میں حضرت سالم رحمہ اللہ اور حضرت قاسم رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہماری رائے یہ ہے کہ اس سے قسم لی جائے کہ اس نے حتمی طلاق کا ارادہ نہیں کیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س، ز، ط، هـ]: (سعيد).
(٢) في [س، ز، ك]: (فقال).
(٣) في [س]: زيادة (لا).
(٤) في [أ، ب]: (نحلفه).
(٥) في [س، هـ]: (إليه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20236
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20236، ترقيم محمد عوامة 19448)