مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق ثلاثا في مرضه فيموت، أعلى امرأته عدة لوفاته؟ باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الوفات میں تین طلاقیں دے اور پھر انتقال کرجائے تو کیا عورت پر اس کی وفات کی عدت لازم ہوگی؟
حدیث نمبر: 20195
٢٠١٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال شريح: أتاني عروة (البارقي) (١) من عند عمر في الطلق ثلاثًا في مرضه: (ترثه) (٢) ما دامت ⦗٤٤٦⦘ في العدة، (و) (٣) لا يرثها، وعليها عدة المتوفى عنها زوجها (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بارقی میرے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے پیغام لے کر آئے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الوفات میں تین طلاقیں دے دے تو عورت اس کی وارث ہوگی جب کہ وہ عورت کا وارث نہیں ہوگا۔ اور عورت پر اس عورت کی عدت لازم ہوگی جس کا خاوند انتقال کرچکا ہو۔
حواشی
(١) في [س]: (الباقي).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، هـ].
(٣) سقط من: [هـ].