مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل (تكون) له النسوة فيطلق (إحداهن) ثم يموت ولا يدرى أيتهن طلق؟ باب: ایک آدمی کی زیادہ بیویاں ہوں، وہ ایک کو طلاق دے اور فوت ہوجائے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس کو طلاق دی ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20184
٢٠١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبد الأعلى) (١) (عن) (٢) برد عن مكحول في رجل كن له أربع نسوة فطلق إحداهن ثم تزوج خامسة ثم مات، و (لم) (٣) يعلم أيتهن طلق؟ قال: ربع الثمن التي تزوج أخيرًا وثلاثة أرباع بين هؤلاء الأربع.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو چار بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کو طلاق دے کر پانچویں سے شادی کرلے اور پھر اس کا انتقال ہوجائے اور معلوم نہ ہو کہ کس کو طلاق دی ہے ، اس صورت میں ثمن کاربع اس عورت کو ملے گا جس سے سب سے آخر میں شادی کی ہے اور تین ربع باقی چار عورتوں کو مل جائیں گے۔
حواشی
(١) في [ز، ك]: (عبد الرحمن).
(٢) في [س]: تكرر.
(٣) في [س، ع]: (لا).