مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل (تكون) له النسوة فيطلق (إحداهن) ثم يموت ولا يدرى أيتهن طلق؟ باب: ایک آدمی کی زیادہ بیویاں ہوں، وہ ایک کو طلاق دے اور فوت ہوجائے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس کو طلاق دی ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20183
٢٠١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن أبي معشر عن ⦗٤٤٣⦘ إبراهيم في رجل كن له أربع نسوة، فطلق إحداهن (١) لا يدرى أيتهن طلق؟ ثم تزوج خامسة ثم مات، قال: يكمل لهذه التي (تزوج) (٢) (ربع) (٣) الميراث، وما بقي بين هؤلاء الأربع.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی چار بیویاں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس کو طلاق دی ہے اور پھر وہ پانچویں سے شادی کرلے تو جس سے شادی کی ہے اسے میراث میں سے ربع ملے گا اور باقی تین ربع باقی عورتوں کو مل جائیں گے۔
حواشی
(١) في [س]: (فلا).
(٢) في [س، ط، هـ]: (زوج).
(٣) سقط من: [ط].