مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل (تكون) له النسوة فيطلق (إحداهن) ثم يموت ولا يدرى أيتهن طلق؟ باب: ایک آدمی کی زیادہ بیویاں ہوں، وہ ایک کو طلاق دے اور فوت ہوجائے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس کو طلاق دی ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20182
٢٠١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن إسماعيل بن (سالم) (١) عن الشعبي في رجل كن له أربع نسوة، فطلق إحداهن، (ثم تزوج أخرى) (٢) ثم مات ولم يدر أيتهن التي طلق، قال: فقال الشعبي: (للأربع الأول) (٣) ثلاثة أرباع الميراث وللخامسة الربع.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی چار بیویاں تھیں، اس نے ان میں سے ایک کو طلاق دے کر ایک اور عورت سے شادی کرلی، پھر وہ انتقال کرگیا اور یہ معلوم نہ ہوا کہ اس نے کس کو طلاق دی تھی۔ اس صورت میں میراث کے تین ربع پہلی چار بیویوں کو ملیں گے اور پانچویں کو ایک ربع ملے گا۔
حواشی
(١) في [س]: (بن حاتم).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ب، س]: (للأول)، وفي [ط، هـ]: (للأولى).