حدیث نمبر: 20166
٢٠١٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن وردان عن يونس قال: كان الحسن يقول: لو أن رجلًا قال: إن دخلت دار بني فلان فامرأتي طالق، فينسى فيدخلها أو دخلها وهو لا يعلم، قال: كان يجعله مثل (العمد) (١) إلا أن يشترط فيقول: إلا أن أنسى.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں فلاں کے گھر میں داخل ہوا تو میری بیوی کو طلاق ہے، پھر وہ بھول کر اس گھر میں داخل ہوگیا اور بغیر علم کے وہاں داخل ہوگیا تو یہ جان بوجھ کرجانے کی طرح ہوگا۔ البتہ اگر اس نے قسم کھاتے ہوئے بھول وغیرہ کو مستثنیٰ کیا تھا تو پھر طلاق نہیں ہوگی۔

حواشی
(١) في [ب، س، ط، هـ]: (العهد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20166
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20166، ترقيم محمد عوامة 19388)