مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال: ترثه ما دامت في العدة منه إذا طلق وهو مريض باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت کی حالت میں طلاق دے تو اگر عورت اس کی وفات کے وقت عدت میں ہوتو وارث ہوگی
حدیث نمبر: 20162
٢٠١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن هشام قال: سألت عروة عن الرجل يطلق امرأته البتة، أيرث أحدهما الآخر؟ وهل لها نفقة؟ فقال: لا يرث أحدهما الآخر، ولا نفقة لها، إلا أن (تكون) (١) حبلى فينفق عليها حتى تضع، أو يطلق مضارا في (مرضٍ) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حتمی طلاق دے دے تو کیا وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ؟ اور کیا عورت کو نفقہ ملے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے اور عورت کو نفقہ بھی نہیں ملے گا، البتہ اگر حاملہ ہو تو نفقہ ملے گا۔ آدمی بچے کی پیدائش تک اس پر خرچ کرے گا ۔ اسی طرح اگر مرض الموت میں عورت کو نقصان پہنچانے کے لئے طلاق دے تب بھی یہی حکم ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (إلا أن يكون).
(٢) في [هـ]: (مرضه).