مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته فترتفع حيضتها باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھراس کوحیض نہ آئے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20115
٢٠١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد ابن يحيى بن حبان (أن جده حبان) (١) بن (منقذ) (٢) كانت عنده امرأتان: امرأة من بني هاشم، وامرأة من الأنصار، وأنه طلق الأنصارية وهي ترضع، وكانت إذا ارضعت مكثت سنة لا تحيض، فمات حبان عند رأس السنة، فورثها عثمان، وقال للهاشمية: هذا رأي ابن عمك: علي بن أبي طالب (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت حبان بن منقذ کی دو بیویاں تھیں، ایک بنو ہاشم سے اور دوسری انصار سے۔ انہوں نے اپنی انصاریہ بیوی کو طلاق دے دی جبکہ وہ بچے کو دودھ پلاتی تھیں۔ جب وہ بچے کو دودھ پلاتی تھیں تو انہیں ایک سال تک حیض نہیں آتا تھا۔ حضرت حبان وہ سال پورا ہونے سے پہلے انتقال کرگئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی بیوی کو وارث قرار دیا۔ اور ہاشمیہ بیوی سے فرمایا کہ یہی رائے تمہارے چچا زاد حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بھی ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، س، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (معبد)، وفي [س]: (مسعد)، وفي [جـ]: (سعد).
(٣) منقطع؛ محمد بن حيان لا يروي عن عثمان.